❮
❯
حدیث نمبر: 1654
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجُشَمِيِّ، ثنا جُنْدُبٌ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا، ثُمَّ رَكِبَهَا، ثُمَّ نَادَى: اللهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُونَ؟ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ لَقَدْ حَظَرَ رَحْمَةً وَاسِعَةً، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ثُمَّ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً تَعَاطَفَ بِهَا الْخَلَائِقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا، وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟»
ترجمہ

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی آیا، اس نے اپنی سواری بٹھائی، پھر اسے باندھا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی، پھر اس پر سوار ہوا، پھر پکارا: اے اللہ، مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما، اور ہماری رحمت میں کسی کو شریک نہ کر۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو؟ کیا وہ خود گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ اس نے ایک وسیع رحمت کو محدود کر دیا، بے شک اللہ عزوجل نے سو رحمتیں پیدا کیں، پھر ان میں سے ایک رحمت اتاری جس سے تمام مخلوقات - جن، انسان اور جانور - ایک دوسرے پر مہربان ہوتے ہیں، اور اس کے پاس ننانوے رحمتیں باقی ہیں، کیا تم کہتے ہو کہ وہ خود گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1654
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 161، حدیث 1667