المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
لجلاج أبو خالد " كان ينزل دمشق " باب: سیدنا لجلاج، ابوخالد، رضی اللہ عنہ، جو دمشق میں رہائش رکھتے تھے
حدیث نمبر: 16539
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا غِلْمَانًا نَعْدُو إِلَى السُّوقِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ أَقَرَّ بِالزِّنَا فَرُجِمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُنَا عَنْ مَكَانِ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي رُجِمَ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا يَسْأَلُنَا عَنْ ذَلِكَ الْخَبِيثِ، فَقَالَ: " لَا تَقُولُوا: خَبِيثٌ، فَوَاللهِ لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ الْمِسْكِ "ترجمہ
سیدنا خالد بن لجلاج رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ہم بازار کی طرف دوڑتے ہوئے آنے جانے والے لڑکے تھے، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے زنا کا اقرار کیا تھا، تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر ایک آدمی آیا جو ہم سے اس رجم کیے گئے شخص کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہم سے اس گندے شخص کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے گندا مت کہو، اللہ کی قسم، وہ تو اللہ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔“