المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
لجلاج أبو خالد " كان ينزل دمشق " باب: سیدنا لجلاج، ابوخالد، رضی اللہ عنہ، جو دمشق میں رہائش رکھتے تھے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ اللَّجْلَاجَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا فِي السُّوقِ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا، فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ، فَسِرْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟» ، فَسَكَتَتْ، فَقَالَ شَابٌّ حَذَاءَهَا: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: «مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟» ، فَسَكَتَتْ، فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا حَدِيثَةُ السِّنِّ، حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِخُرْبَةٍ، وَلَيْسَتْ تُكَلِّمُكَ، وَأَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَأَنَّهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا أَوْ نَحْوَ ذَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْصَنْتَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجَمَ، فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى مَجَالِسِنَا، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ شَيْخٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِيبِهِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ، هُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ» ، فَانْصَرَفْنَا مَعَ الشَّيْخِ فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ، قَالَ: وَمَا أَدْرِي قَالَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ أَمْ لَا(لجلاج رضی اللہ عنہ) نے بتایا کہ وہ بازار میں بیٹھے تھے کہ ایک عورت ایک بچہ اٹھائے گزری، تو لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی اٹھا، ہم چل کر نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تیرے ساتھ اس بچے کا باپ کون ہے؟“ تو وہ خاموش رہی، اس کے پاس کھڑے ایک نوجوان نے کہا: میں اس کا باپ ہوں، اے اللہ کے رسول۔ تو آپ ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تیرے ساتھ اس بچے کا باپ کون ہے؟“ وہ پھر خاموش رہی، تو اس نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کم عمر ہے، ابھی نادان ہے، آپ سے بات نہیں کرے گی، اور میں اس کا باپ ہوں، اے اللہ کے رسول۔ تو نبی کریم ﷺ نے اپنے کچھ صحابہ کی طرف دیکھا گویا ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہے ہوں، تو انہوں نے کہا: ہم اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے، یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو نبی کریم ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو ہم اسے لے کر نکلے، اس کے لیے گڑھا کھودا یہاں تک کہ ہم نے اسے اس میں بٹھا دیا، پھر ہم نے اسے پتھر مارے یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گیا، پھر ہم اپنی مجلسوں کی طرف لوٹ آئے۔ اسی دوران ایک بوڑھا شخص آیا جو رجم کیے گئے شخص کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو ہم اس کی طرف اٹھے اور اس کا گریبان پکڑ کر اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ اس گندے شخص کے بارے میں پوچھنے آیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو، وہ تو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔“ تو ہم اس بوڑھے کے ساتھ چل پڑے تو معلوم ہوا کہ وہ تو مرحوم کا باپ ہے، ہم اس تک پہنچے اور اس کے غسل، کفن اور دفن میں اس کی مدد کی۔ راوی کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی بات بھی کہی یا نہیں۔