المعجم الكبير للطبراني
باب اللام— حرف لام سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
لقيط بن صبرة العقيلي باب: سیدنا لقیط بن صبرہ عقیلی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَجِدْهُ فَأَطْعَمَتْنَا عَائِشَةُ تَمْرًا، وَعَصَدَتْ لَنَا عَصِيدَةً، إِذْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِعُ، فَقَالَ: «هَلْ أَطْعَمْتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ؟» ، قُلْنَا: نَعَمْ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَفَعَ الرَّاعِي الْغَنَمَ إِلَى الْمُرَاحِ، عَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ، فَقَالَ: «هَلْ وَلَدَتْ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاذْبَحْ شَاةً» ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " لَا تَحْسَبَنَّ - وَلَمْ يَقُلْ: لَا تَحْسَبُنَّ - أَنَّا ذَبَحْنَا الشَّاةَ مِنْ أَجْلِكُمَا، لَنَا غَنْمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ عَلَيْهَا، إِذَا وُلِدَ لِلرَّاعِي بَهْمَةٌ أَمَرْنَاهُ فَذَبَحَ شَاةً "
قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْثَرْتَ فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا»
قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً، فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَبَذَائِهَا، قَالَ: «طَلِّقْهَا» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُحْبَةٍ وَوَلَدٍ، قَالَ: «أَمْسِكْهَا وَأَئْمِرْهَا فَإِنْ يَكُنْ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلُ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ» .(سیدنا لقیط بن صبرہ عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں اور میرا ایک ساتھی رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو ہمیں آپ ﷺ نہ ملے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں کھجوریں کھلائیں اور ہمارے لیے حلوہ بنایا، اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو فرمایا: ”کیا تم نے انہیں کچھ کھلایا؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ اسی دوران چرواہا بکریوں کو باڑے میں لے آیا، اس کے ہاتھ میں ایک نوزائیدہ بچہ تھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے بچہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ایک بکری ذبح کرو۔“ پھر ہماری طرف اپنا چہرہ متوجہ کر کے فرمایا: ”یہ ہرگز نہ سمجھو“ — اور یہ نہیں فرمایا کہ تم نہ سمجھو — ”کہ ہم نے یہ بکری تم دونوں کی وجہ سے ذبح کی ہے، ہمارے پاس سو بکریاں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ یہ تعداد اس سے بڑھے، جب بھی چرواہے کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اسے حکم دیتے ہیں کہ ایک بکری ذبح کر دے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وضو کرو تو اچھی طرح وضو کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو، اور جب ناک میں پانی ڈالو تو خوب ڈالو، سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، اور اس کی زبان درازی اور بدکلامی کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو ساتھ نبھانے والی اور اولاد والی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے رکھو اور اسے نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہو گی تو وہ اسے اپنا لے گی، اور اپنی بیوی کو کبھی اپنی لونڈی کی طرح نہ مارنا۔“