المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كدير الضبي " كان ينزل الكوفة، وقد اختلف في صحبته " باب: سیدنا کدیر ضبی رضی اللہ عنہ، جو کوفہ میں رہائش رکھتے تھے، ان کی صحابیت میں اختلاف ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أبِي إِسْحَاقَ: أَخْبَرَنِي كُدَيْرٌ الضَّبِّيُّ: أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَهُمَا أَهَمَّتَاكَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «تَقُولُ الْعَدْلَ وَتُعْطِي الْفَضْلَ» ، قَالَ: وَاللهِ مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ كُلَّ سَاعَةٍ، وَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُعْطِيَ فَضْلَ مَالِي، قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتُفْشِي السَّلَامَ» ، قَالَ: هَذِهِ أَيْضًا شَدِيدَةٌ، فَقَالَ: «فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ ثُمَّ اعْمِدْ إِلَى أَهْلَ بَيْتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسِقِهِمْ، فَلَعَلَّكَ لَا تُهْلِكُ بَعِيرَكَ وَلَا تَخْرِقُ سِقَاءَكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ» ، فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يُكَبِّرُ، فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُهُ وَلَا هَلَكَ بَعِيرُهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًاسیدنا کدیر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے یہی دونوں باتیں فکرمند کیے ہوئے ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انصاف کی بات کہو اور اپنے مال کا زائد حصہ دو۔“ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میں ہر وقت انصاف کی بات نہیں کہہ سکتا، اور نہ اپنے مال کا زائد حصہ دے سکتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھانا کھلاؤ اور سلام عام کرو۔“ اس نے کہا: یہ بھی مشکل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ اور ایک مشک لے، پھر کسی ایسے گھرانے کا رخ کر جو وقفے وقفے سے پانی پیتے ہوں، اور انہیں پلا دے، شاید تیرا اونٹ نہ مرے اور نہ تیری مشک پھٹے یہاں تک کہ تیرے لیے جنت واجب ہو جائے۔“ تو وہ اعرابی تکبیر کہتا ہوا چل دیا، اور نہ اس کی مشک پھٹی نہ اونٹ مرا یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا گیا۔