المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 16449–16450) باب: (احادیث 16449 تا 16450)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَتْنِي كَرَامَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، يَقُولُ: «هَذَا الْيَوْمُ حَرَامٌ؟» ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَإِنَّ حُرْمَتَكُمْ بَيْنَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، أُنَبِّئُكُمْ مَنِ الْمُسْلِمُ؟ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، أُنَبِّئُكُمْ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟، مَنْ أَمِنَهُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ، وَأُنَبِّئُكُمْ مَنِ الْمُهَاجِرُ؟، الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ مِمَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ، وَالْمُؤْمِنُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ، لَحْمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَأْكُلَهُ بِالْغَيْبِ وَيَغْتَابَهُ، وَعِرْضُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَخْرَقَهُ، وَوَجْهُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَلْطِمَهُ، وَأَذَاهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يُؤْذِيَهُ، وَعَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَدْفَعَهُ دَفَعًا يُتَعْتِعُهُ»سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر ایامِ تشریق کے درمیانی دن خطبہ دیتے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”کیا یہ دن حرمت والا نہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہاری آپس میں حرمت ایسی ہی ہے جیسے تمہارے اس دن کی حرمت۔ کیا میں تمہیں بتاؤں مسلمان کون ہے؟ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ کیا میں تمہیں بتاؤں مومن کون ہے؟ مومن وہ ہے جس پر مسلمان اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بھروسا کریں۔ اور کیا میں تمہیں بتاؤں مہاجر کون ہے؟ مہاجر وہ ہے جو ان برائیوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے۔ اور ایک مومن دوسرے مومن پر ویسے ہی حرام ہے جیسے یہ دن حرمت والا ہے: اس کا گوشت اس پر حرام ہے کہ اس کی غیبت کر کے کھایا جائے، اس کی عزت اس پر حرام ہے کہ اسے داغدار کیا جائے، اس کا چہرہ اس پر حرام ہے کہ اسے تھپڑ مارا جائے، اسے تکلیف دینا اس پر حرام ہے، اور اسے اس طرح دھکیلنا حرام ہے کہ وہ لڑکھڑا جائے۔“