المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو بكر بن بشير، عن كعب بن عجرة باب: ابوبکر بن بشیر کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ، وَلَا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَلَا دَمٌ نَبَتَا مِنْ سُحْتٍ، كُلُّ لَحْمٍ وَدَمٍ نَبَتَا مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِمَا، يا كعب بن عجرة، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ غَادِيَانِ رَائِحَانِ فَغَادٍ فِي فَكَاكِ رَقَبَتِهِ فَمُعْتِقُهَا وَغَادٍ فَمُوبِقُهَا يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ»
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ غَادِيَانِ رَائِحَانِ فَغَادٍ فِي فَكَاكِ رَقَبَتِهِ فَمُعْتِقُهَا وَغَادٍ فَمُوبِقُهَا»
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ»سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم پر ایسے حکمران ہوں کہ جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر نہیں آئے گا۔ اور جو ان کے پاس جائے مگر ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اے کعب بن عجرہ! حرام کمائی سے پلا ہوا گوشت اور خون کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جو بھی گوشت اور خون حرام کمائی سے پلا ہو، آگ اس کی زیادہ حق دار ہے۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ صبح و شام دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو اپنی گردن آزاد کروانے میں لگا ہے تو اسے آزاد کروانے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اسے ہلاک کرنے والا ہے۔ اے کعب بن عجرہ! نماز دلیل ہے، اور روزہ ڈھال ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! لوگ صبح و شام دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو اپنی گردن آزاد کروانے میں لگا ہے تو اسے آزاد کروانے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اسے ہلاک کرنے والا ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! نماز دلیل ہے، اور روزہ ڈھال ہے۔“