المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حدير مولى زينب بنت جحش، عن كعب باب: حدیر، سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایت
حدیث نمبر: 16394
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا لَيْثٌ، عَنِ الْحُدَيْرِ، مَوْلًى لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَفِينَا سِتَّةٌ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَأَمْضَى لَهُمْ مَكْرَهُمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ وَلَا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ»ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم نو آدمی تھے اور ہم میں سے چھ عجمی تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ حکمران ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے اور ان کی چالبازی ان کے لیے نافذ کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر نہیں آئے گا۔“