المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إسحاق بن كعب بن عجرة، عن أبيه كعب باب: اسحاق بن کعب بن عجرہ کی اپنے والد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُبَيْسِ بْنِ مَرْحُومِ الْعَطَّارُ، ثنا جَدِّي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: «فَمَا تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ؟» ، قَالُوا: الْجَنَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ إِنْ شَاءَ اللهُ» ، قَالَ: «فَمَا تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللهِ؟» ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «الْجَنَّةُ إِنْ شَاءَ اللهُ» ، قَالَ: " فَمَا تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ مَاتَ فَقَامَ رَجُلَانِ ذَوَا عَدْلٍ فَقَالَا: لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا؟ "، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «الْجَنَّةُ إِنْ شَاءَ اللهُ» ، قَالَ: " فَمَا تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ مَاتَ فَقَامَ رَجُلَانِ ذَوَا عَدْلٍ فَقَالَا: لَا نَعْلَمُ خَيْرًا؟ "، فَقَالُوا: النَّارَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُذْنِبٌ، وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ»سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے؟“ صحابہ نے عرض کیا: جنت (میں جائے گا)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت، اگر اللہ نے چاہا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو اللہ کی راہ میں فوت ہو جائے؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت، اگر اللہ نے چاہا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو فوت ہو جائے اور دو عادل آدمی کھڑے ہو کر کہیں: ہم اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت، اگر اللہ نے چاہا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو فوت ہو جائے اور دو عادل آدمی کھڑے ہو کر کہیں: ہم اس کے بارے میں خیر نہیں جانتے؟“ تو صحابہ نے عرض کیا: آگ (میں جائے گا)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ گناہ گار ہے، اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔“