حدیث نمبر: 16353
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: أَحْرَمْتُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعَلِيَّ وَفْرَةٌ مِنْ شَعَرٍ، فَقَمِلْتُ وَأَخَذَنِي الصِّئْبَانُ، فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «احْلِقِ احْلِقْ» ، فَحَلَقْتُ، فَقَالَ: «هَلْ مَعَكَ هَدْيٌ؟» ، قُلْتُ: مَا أَجِدُهُ، قَالَ: «إِنَّهُ مَا اسْتَيْسَرَ» ، قُلْتُ: مَا أَجِدُهُ، قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ» ، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: ١٩٦] . «وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ»
ترجمہ

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے حدیبیہ سے احرام باندھا، اس وقت میرے سر پر گھنے بال تھے، تو مجھے جوئیں پڑ گئیں اور نتیں (جوؤں کے انڈے) بھی چمٹ گئیں، تو نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا اور فرمایا: ”منڈوا لو، منڈوا لو۔“ تو میں نے سر منڈوا لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ہدی (قربانی کا جانور) ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو میسر ہو۔“ میں نے عرض کیا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تین دن روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع گندم کھلاؤ۔“ کہتے ہیں: میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو“ [سورۃ البقرہ: 196]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16353
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 138، حدیث 303