حدیث نمبر: 16352
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَعْقِلٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟» ، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ صَاعٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] ، ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً
ترجمہ

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں نکلے تو ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑ گئیں، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف کسی کو بھیجا اور حجام کو بلایا جس نے ان کا سر منڈوا دیا، پھر فرمایا: ”کیا تمہارے پاس قربانی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میری استطاعت نہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں تین دن روزے رکھنے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا، ہر مسکین کو ایک صاع۔ تو اللہ عزوجل نے خاص طور پر ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس پر روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ ہے“ [سورۃ البقرہ: 196]، پھر یہ حکم عام طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہو گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16352
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 137، حدیث 302