المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن عبد الرحمن باب: مجاہد کی عبدالرحمن سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ادْنُ» ، فَدَنَوْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: نَعَمْ «،» فَأَمَرَنِي بِصِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: " فَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ، فَذَاكَرْتُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْهُ، قُلْتُ: كَيْفَ هُوَ؟، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ صَدَقَةٌ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينٍ أَوْ نُسُكٌ مَا تَيَسَّرَ، وَكَانَ أَيُّوبُ يَقُولُ: إِنَّهُ قَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ "سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آؤ۔“ تو میں دو یا تین بار قریب ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں تمہاری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ - ابن عون کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: جی ہاں - تو آپ ﷺ نے مجھے روزے یا صدقے یا قربانی کا حکم دیا، جو بھی میسر ہو۔
ابن عون کہتے ہیں: مجھے یاد نہ رہا کہ انہوں نے روزے اور صدقے کے بارے میں کیا کہا تھا، تو میں نے ایوب سختیانی سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی یہ حدیث انہی سے سنی ہے۔ میں نے پوچھا: وہ کیسے ہے؟ انہوں نے کہا: تین دن کے روزے، یا چھ مسکینوں کو صدقہ، یا جو میسر ہو قربانی۔ اور ایوب کہا کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“