حدیث نمبر: 1624
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: كَانَ يَبْلُغُنِي، عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ، فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرًّ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ حَدِيثٌ، فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ فَقَدْ لَقِيتَنِي فهاتِ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَكَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ ثَلَاثَةً، وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً» ، قَالَ: فَلَا أَخَالُنِي أَكْذَبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ؟، قَالَ: «رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَهُ عِنْدَكُمْ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ» ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا، كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ} [الصف: ٤] ، قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: «رَجُلٌ كَانَ لَهُ جَارُ سُوءٍ، يُؤْذِيهِ، فَصَبَرَ عَلَى أَذَاهُ، حَتَّى يَكْفِيَهُ اللهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ، أَوْ مَوْتٍ» ، قُلْتُ: وَمَنْ؟، قَالَ: «رَجُلٌ سَافَرَ مَعَ قَوْمٍ، فَارْتَحَلُوا، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعَ عَلَيْهِمُ الْكَرَى، أَوِ النُّعَاسُ، فَنَزَلُوا، فَضَرَبُوا بِرُءُوسِهمْ، ثُمَّ قَامَ، فَتَطَهَّرَ، وَصَلَّى رَغْبَةً لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَغْبَةً فِيمَا عِنْدَهُ» ، قُلْتُ: وَمَا الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: " الْبَخِيلُ الْفَخُورُ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: ١٨] "، قُلْتُ: وَمَا الْمُخْتَالُ الْفَخُورُ؟ قَالَ: «أَنْتُمْ تَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، الْبَخِيلَ الْمُخْتَالَ» قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: " التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوِ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا، قَالَ أَبُو ذَرٍّ "، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرًّ مَا الْمَالُ؟، قَالَ: فَرَقٌ لَنَا وَذَوْدٌ، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرًّ، لَيْسَ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ، قَالَ: مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى، وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ، قُلْتُ: مَا لَكَ ولِأَخْوَانِكَ مِنْ قُرَيْشٍ؟، قَالَ: وَاللهِ لَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ، وَلَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا حَتَّى أَلْقَى اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ

ایک راوی بیان کرتے ہیں: ...میں آپ سے ملاقات کا آرزومند تھا، تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے باپ پر اللہ کی رحمت ہو، تم مجھ سے مل ہی لیے تو اب پوچھو۔ میں نے کہا: مجھے ایک حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بیان فرمائی تھی کہ ”اللہ عزوجل تین (قسم کے لوگوں) سے محبت کرتا ہے اور تین سے نفرت کرتا ہے۔“ فرمایا: میں اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے والا نہیں سمجھتا۔ میں نے کہا: وہ تین کون ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے؟ فرمایا: ”ایک وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں صبر اور ثواب کی نیت سے جہاد کرے اور لڑتے لڑتے شہید ہوجائے، اور تم اسے اللہ کی کتاب میں پاتے ہو“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر اس طرح لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں“ [سورۃ الصف: 4]۔ میں نے کہا: اور کون؟ فرمایا: ”ایک وہ آدمی جس کا برا پڑوسی ہو جو اسے تکلیف دیتا ہو، تو وہ اس کی تکلیف پر صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے اس سے زندگی میں یا موت کے ذریعے کفایت کر دے۔“ میں نے کہا: اور کون؟ فرمایا: ”ایک وہ آدمی جو کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کرے، وہ لوگ چل پڑیں یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں انہیں نیند یا اونگھ آجائے تو وہ اتر کر اپنے سر رکھ دیں، پھر وہ اٹھے، وضو کرے اور اللہ عزوجل کی رغبت میں اور اس کے پاس جو کچھ ہے اس کی طلب میں نماز پڑھے۔“ میں نے کہا: اور وہ تین کون ہیں جن سے اللہ عزوجل نفرت کرتا ہے؟ فرمایا: ”بخیل، فخر کرنے والا، اور یہ اللہ کی کتاب میں ہے: بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا“ [سورۃ لقمان: 18]۔ میں نے کہا: مختال فخور کیا ہے؟ فرمایا: ”تم اسے اللہ کی کتاب میں پاتے ہو، بخیل متکبر۔“ میں نے کہا: اور کون؟ فرمایا: ”بہت قسمیں کھانے والا تاجر یا بہت قسمیں کھانے والا بیچنے والا“، (راوی کہتے ہیں) مجھے معلوم نہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں سے کون سا لفظ کہا۔ میں نے کہا: اے ابوذر، مال کیا ہے؟ فرمایا: ہمارے لیے بکریوں کا ریوڑ اور اونٹوں کا جھنڈ۔ میں نے کہا: اے ابوذر، میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا، میں تو آپ سے سونے چاندی (نقد مال) کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ فرمایا: جو صبح ہو تو شام تک نہ رہے، اور جو شام ہو تو صبح تک نہ رہے۔ میں نے کہا: آپ کا اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا معاملہ ہے؟ فرمایا: اللہ کی قسم، نہ میں ان سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھتا ہوں اور نہ دنیا کا کچھ مانگتا ہوں یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے جا ملوں، یہ بات انہوں نے تین بار کہی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1624
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 152، حدیث 1637