حدیث نمبر: 16226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ كَفَّ بَصَرُهُ، فَإِذَا خَرَجْتُ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ بِهَا اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: إِنْ عَجْزٌ إِلَّا أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ هَذَا، فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، فَقُلْتُ: «يَا أَبَتَاهُ أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ؟» ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيْ كَانَ أَسْعَدُ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي الْمَدِينَةِ قَبْلَ مَقْدِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَزْمٍ مِنْ حُرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعِ الْخَضَمَاتِ، قُلْتُ: وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلًا
ترجمہ

...میں کچھ عرصہ ان سے یہ استغفار سنتا رہا، تو میں نے دل میں کہا: مجھ سے اگر کچھ نہ بھی ہو سکے تو کم از کم یہ ضرور پوچھوں گا۔ چنانچہ میں انہیں لے کر نکلا جیسے میں معمول کے مطابق لے کر نکلا کرتا تھا، جب انہوں نے جمعہ کی اذان سنی تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کیا، تو میں نے پوچھا: اے میرے والد! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے، اسعد رضی اللہ عنہ ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ہمیں مدینہ میں، بنی بیاضہ کی سنگلاخ زمین کے ایک نشیب، نقیعِ خضمات میں، جمعہ کی نماز کے لیے جمع کیا تھا۔ میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: چالیس آدمی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16226
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 91، حدیث 176