المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن كعب بن مالك، عن أبيه الزهري، عن ابن كعب باب: ابن کعب بن مالک کی اپنے والد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات؛ زہری کی ابن کعب سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكُرَيْزِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: «لَقَدْ بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ بَايَعْنَاهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَلَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا بَدْرًا، وَإِنْ كَانَتْ لَهِيَ أَكْثَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا، وَكَانَتْ غَزْوَةً لَمْ يُعَاتِبِ اللهُ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْعِيرَ، حَتَّى جَمَعَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ عَلَى غَيْرِ مَوْعِدٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ وَجْهًا كُنَّا نُغَيِّرُهُ حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكٍ، غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فِي حَدِيثِ زَيْدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَسیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے عقبہ کی رات، جب ہم نے اسلام پر آپ ﷺ سے بیعت کی، بیعت کی تھی۔ میں بدر میں شریک نہ ہو سکا، اور مجھے یہ پسند نہیں کہ اس کے بدلے مجھے بدر کی شرکت مل جائے، اگرچہ لوگوں میں بدر کا ذکر زیادہ ہے۔ اور وہ ایسا غزوہ تھا کہ اللہ نے اس سے پیچھے رہنے والے کسی کو ملامت نہیں کی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ تو تجارتی قافلے کے ارادے سے نکلے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے دشمن کے درمیان بغیر کسی وعدے کے ملاقات کرا دی۔ اور رسول اللہ ﷺ جب کسی سمت جانے کا ارادہ کرتے تو ہم اسے چھپا دیتے، یہاں تک کہ غزوہ تبوک ہوا، رسول اللہ ﷺ نے اس کا غزوہ کیا - زید کی روایت میں یوں ہے - پھر (راوی نے) آگے پورا واقعہ بیان کیا۔