❮
❯
حدیث نمبر: 16144
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَنْجَانِيَ اللهُ بِالصِّدْقِ، وَإِنْ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ كَذِبًا، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» ، قَالَ: أُمْسِكُ سَهْمَ خَيْبَرَ
ترجمہ

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے مجھے سچ ہی کی وجہ سے نجات دی ہے، اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں آئندہ کبھی جھوٹ نہ بولوں، اور اپنا مال اللہ عزوجل اور اس کے رسول کے لیے (صدقہ کر کے) اس سے الگ ہو جاؤں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھتا ہوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16144
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 53، حدیث 94