المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح، عن قتادة باب: عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کی سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي مُظْلِمَةً، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَهِدَتُ مَعَهُ الصَّلَاةَ وَآنَسْتُهُ بِنَفْسِي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ بَرَقَتِ السَّمَاءُ فَرَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا قَتَادَةُ مَا هَاجَ عَلَيْكَ؟» ، فَقُلْتُ: أَرَدْتُ، بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ، أَنْ أُونِسَكَ، قَالَ: «خُذْ هَذَا الْعُرْجُونَ فَتَحَصَّنْ بِهِ، فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ أَضَاءَ لَكَ عَشْرًا أَمَامَكَ وَعَشْرًا خَلْفَكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِذَا دَخَلْتَ بَيْتَكَ اضْرِبْ بِهِ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ فِي إِنْسَانِ الْبَيْتِ، فَإِنَّ ذَلِكَ الشَّيْطَانُ» ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَأَضَاءَ لِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْتِيسیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک اندھیری رات میں نکلا اور (دل میں) کہا: کاش میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہو کر اپنی موجودگی سے آپ ﷺ کو انس دلاؤں، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو آسمان پر بجلی چمکی، رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اے قتادہ! تمہیں کیا بات یہاں لے آئی؟“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے چاہا کہ آپ کو انس دلاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھجور کی ٹہنی لے لو اور اس سے حفاظت حاصل کرو، جب تم نکلو گے تو یہ تمہارے آگے دس قدم اور پیچھے دس قدم روشن کر دے گی۔“ پھر فرمایا: ”جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر کے اندر کھردرے پتھر جیسی جو چیز (نظر آئے) اسے اس سے مارنا، کیونکہ وہ شیطان ہے۔“ چنانچہ میں نکلا تو وہ میرے لیے روشن ہو گئی، پھر میں نے اس کھردرے پتھر جیسی چیز کو مارا یہاں تک کہ وہ میرے گھر سے نکل گیا۔