المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جندب بن جنادة أبو ذر الغفاري رضي الله عنه وهو جندب بن جنادة بن سفيان بن عبيد بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان باب: سیدنا جندب بن جنادہ، ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، اور وہ جندب بن جنادہ بن سفیان بن عبید بن حرام بن غفار بن ملیل بن ضمرہ بن بکر بن عبدمناۃ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہیں
حدیث نمبر: 1604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلُّوَيْهِ الْقَطَّانُ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الْجُرَشِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَبْعَ الْإِسْلَامِ أَسْلَمَ، قَبْلِي ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، وَأَنَا الرَّابِعُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَرَأَيْتُ الِاسْتِبْشَارَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ أَنْتَ؟» فَقُلْتُ: أَنَا جُنْدُبٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَعَ وَوَدَّ أَنِّي كُنْتُ مِنْ قَبِيلَةٍ غَيْرِ الَّتِي أَنَا مِنْهُمْ، وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ مِنْ قَبِيلَةٍ يَسْرِقُونَ الْحَاجَّ، بِمَحَاجِنَ لَهُمْترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ...میں نے کہا: السلام علیک یا رسول اللہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر خوشی دیکھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے کہا: میں جندب ہوں، بنو غفار کا ایک آدمی، تو گویا آپ ﷺ (یہ سن کر) رک سے گئے اور چاہا کہ میں اس قبیلے کے بجائے کسی اور قبیلے سے ہوتا جس سے میں تھا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ایسے قبیلے سے تھا جو اپنی لاٹھیوں سے حاجیوں کا سامان چراتے تھے۔