❮
❯
حدیث نمبر: 1604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلُّوَيْهِ الْقَطَّانُ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الْجُرَشِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَبْعَ الْإِسْلَامِ أَسْلَمَ، قَبْلِي ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، وَأَنَا الرَّابِعُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَرَأَيْتُ الِاسْتِبْشَارَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ أَنْتَ؟» فَقُلْتُ: أَنَا جُنْدُبٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَعَ وَوَدَّ أَنِّي كُنْتُ مِنْ قَبِيلَةٍ غَيْرِ الَّتِي أَنَا مِنْهُمْ، وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ مِنْ قَبِيلَةٍ يَسْرِقُونَ الْحَاجَّ، بِمَحَاجِنَ لَهُمْ
ترجمہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اسلام لانے میں چوتھے نمبر پر تھا، مجھ سے پہلے تین آدمی اسلام لا چکے تھے اور میں چوتھا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر خوشی دیکھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے کہا: میں جندب ہوں، بنو غفار کے ایک آدمی۔ تو گویا آپ ﷺ (یہ سن کر) رک سے گئے اور چاہا کہ میں اس قبیلے کے بجائے کسی اور قبیلے سے ہوتا جس سے میں تھا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ایسے قبیلے سے تھا جو اپنی لاٹھیوں سے حاجیوں کا سامان چراتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1604
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 147، حدیث 1617