المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الفلتان بن عاصم باب: سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِهِ الفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ نَنْتَظِرُهُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، فَجَلَسَ طَوِيلًا لَا يَتَكَلَّمُ ثُمَّ سُرِّي عَنْهُ، فَقَالَ: «إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ تَبَيَّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ومَسِيحُ الضَّلَالَةِ، فَخَرَجْتُ إِلَيْكُمْ لِأُبَيِّنَهَا لَكُمْ فَلَقِيتُ بِالْمَسْجِدِ رَجُلَانِ يَتَلَاحَيَانِ بَيْنَهُمَا الشَّيْطَانُ، فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا، فَاخْتُلِسَتْ مِنِّي فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَجْلَى الْجَبْهَةِ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، عَرِيضُ النَّحْرِ فِيهِ دِمَاءٌ كَأَنَّه ابْنُ الْعُزَّى أَو ابْنُ الْعُزَّى بْنِ فُلَانٍ»سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ہم بیٹھے آپ کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ اس حال میں ہمارے سامنے تشریف لائے کہ آپ کے چہرے پر ناراضگی تھی، آپ کافی دیر بیٹھے رہے، کچھ نہیں بولے، پھر آپ کی یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”میں تمہاری طرف اس حال میں نکلا تھا کہ مجھ پر شبِ قدر اور مسیح ضلالت کی حقیقت واضح ہو چکی تھی، تو میں نکلا کہ اسے تمہارے لیے واضح کروں، پھر مسجد میں میں نے دو آدمیوں کو جھگڑتے پایا جن کے درمیان شیطان تھا، تو میں نے ان دونوں کے درمیان مداخلت کی، جس سے وہ بات مجھ سے چھین لی گئی، سو اسے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ رہا مسیح ضلالت (دجال)، تو اس کی پیشانی کھلی ہوئی، آنکھ مٹی ہوئی، گردن چوڑی ہوگی، اس میں خون کے نشان ہوں گے، گویا وہ ابن العزیٰ ہے یا فلاں کا بیٹا ابن العزیٰ ہے۔“