المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
فرات بن حيان العجلي باب: سیدنا فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الفَسَوِيُّ قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُرَقَّعٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: انْطَلَقْنَا مَعَ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى مَسْجِدِ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ لَهُ: تَقَدَّمْ، فَقَالَ لَهُ: مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمُكَ وَأَنْتَ أَكْبَرُ مِنِّي سِنًّا، وَأَقْدَمُ هِجْرَةً، وَالْمَسْجِدُ مَسْجِدُكَ، فَقَالَ فُرَاتٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيكَ شَيْئًا لَا أَتَقَدَّمُكَ أَبَدًا، قَالَ: أَشْهِدْتَهُ يَوْمَ أَتَيْتُهُ بِالطَّائِفِ فَبَعَثَنِي عَيْنًا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ حَنْظَلَةُ فَصَلَّى بِهِمْ، فَقَالَ فُرَاتٌ: يَا بَنِي عَجْلَانَ إِنَّمَا قَدَّمْتُ هَذَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَيْنًا إِلَى الطَّائِفِ، فَجَاءَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: صَدَقْتَ ارْجِعْ إِلَى مَنْزِلِكَ فَإِنَّكَ قَدْ شَهِدْتَ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ لَنَا: «ائْتَمُّوا بِهَذَا وَأَشْبَاهِهِ»قیس بن زہیر بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا حنظلہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ کی مسجد کی طرف گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، (سیدنا فرات نے) ان سے کہا: آگے بڑھیے۔ انہوں نے کہا: میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا جبکہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، ہجرت میں مجھ سے پہلے ہیں، اور مسجد بھی آپ کی مسجد ہے۔ سیدنا فرات رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے بارے میں ایک بات فرماتے سنا ہے، (اس لیے) میں کبھی آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا۔ انہوں نے کہا: کیا آپ اس دن موجود تھے جب میں طائف میں آپ ﷺ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھے جاسوس بنا کر بھیجا تھا؟ کہا: ہاں۔ چنانچہ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھائی۔ پھر سیدنا فرات رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنی عجلان! میں نے انہیں صرف اس لیے آگے کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں طائف کی طرف جاسوس بنا کر بھیجا، وہ آئے اور آپ کو خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، اپنے گھر واپس جاؤ، تم نے آج رات (کی حاضری کا اجر) پا لیا۔“ جب وہ چلے گئے تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”ان کی اور ان جیسے لوگوں کی اقتدا کرو۔“