المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حنش، عن فضالة بن عبيد باب: حنش کی سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالُوا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَقُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْوَئِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى الشَّرْعَنِيِّ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ، فَصَارَتْ لِي وَلِأَصْحَابِي قِلَادَةٌ فِيهَا جَوْهَرٌ وَلُؤْلُؤٌ، وَذَهَبٌ فَقَالَ لِي أَصْحَابِي: اشْتَرِهَا مِنَّا نُقَارِبُكَ، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: انْزِعِ الذَّهَبَ، اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ، وَاجْعَلِ الذَّهَبَ فِي كِفَّةٍ أُخْرَى، وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَأَنَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذُ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ»حنش بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم غزوۂ رودس میں سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، تو میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں جواہر، موتی اور سونا تھا۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: یہ ہم سے خرید لو، ہم (قیمت میں) تمہارے ساتھ رعایت کریں گے۔ میں نے کہا: نہیں، جب تک میں سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: سونا نکال کر ایک پلڑے میں رکھو، اور دوسرا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو، اور برابر برابر کے سوا نہ لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ برابر برابر کے سوا نہ لے۔“