حدیث نمبر: 15866
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرٍ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِسَبْعَةٍ أَوْ تِسْعَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «لَا، حَتَّى يُمَيَّزَ مَا بَيْنَهُمَا» فَقَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ: «لَا حَتَّى يُمَيَّزَ مَا بَيْنَهُمَا» قَالَ: فَرَدَّ حَتَّى مُيِّزَ
ترجمہ

خیبر کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں موتی سونے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، ایک آدمی نے اسے سات یا نو (دیناروں) کے بدلے خریدا تھا، وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات آپ سے ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ ان دونوں کو الگ الگ کیا جائے۔“ اس نے کہا: میرا ارادہ تو صرف پتھروں (موتیوں) کا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ ان دونوں کو الگ الگ کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ اسے واپس کیا گیا یہاں تک کہ الگ کر لیا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الفاء / حدیث: 15866
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 302، حدیث 775