المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
فضالة بن عبيد الأنصاري كان ينزل مصر باب: سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ، جو مصر میں رہائش رکھتے تھے
حدیث نمبر: 15857
حَدَّثَنَا وَرَدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: إِنَّ أَقْوَى مَا يُرِيدُونَ أَنْ يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ دِينِي، وَلَا يَكُنْ ذَلِكَ حَتَّى أَلْقَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ: «مَنْ بَاعَ طَعَامًا أَوْ عَلَفًا مِمَّا أُصِيبَ بِأَرْضِ الرُّومِ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَقَدْ وَجَبَ فِيهِ خُمْسُ اللهِ وَسِهَامُ الْمُسْلِمِينَ»ترجمہ
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب سے بڑی کوشش جو یہ لوگ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مجھے میرے دین سے ہٹا دیں، مگر ایسا نہیں ہوگا یہاں تک کہ میں محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ سے جا ملوں: ”جو شخص روم کی سرزمین سے حاصل شدہ غنیمت میں سے کھانا یا چارہ سونے یا چاندی کے بدلے بیچے تو اس میں اللہ کا خمس اور مسلمانوں کے حصے واجب ہو جاتے ہیں۔“