المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو هريرة، عن الفضل بن عباس باب: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ مَرْوَانُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا، فَلَا يَصُومَنَّ يَوْمَئِذٍ» فَأَرْسَلَ أَبِي إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْأَلَهَا فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَيْهَا فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا» . فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: الْقَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَحَدِّثْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَجَارِي وَإِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِمَا يَكْرَهُ فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتَأْتِيَنَّهُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنْ كُنْتُ لَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَكَ بِمَا تَكْرَهُ وَلَكِنَّ الْأَمِيرَ عَزَمَ عَلِيَّ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ جب مروان کو معلوم ہوا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو جنبی حالت میں صبح کرے وہ اس دن روزہ نہ رکھے“، تو انہوں نے میرے والد کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے پوچھیں، میں بھی اپنے والد کے ساتھ ان کے پاس گیا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح کرتے، پھر روزے کی حالت میں صبح کرتے۔“ چنانچہ وہ مروان کے پاس لوٹے اور یہ بتایا، تو مروان نے کہا: ابوہریرہ سے مل کر انہیں بتاؤ۔ انہوں نے کہا: وہ تو میرے پڑوسی ہیں اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ ان سے ایسی بات کہوں جو انہیں ناگوار گزرے۔ مروان نے کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ان کے پاس ضرور جاؤ۔ چنانچہ وہ ان کے پاس گئے اور کہا: اے ابوہریرہ! مجھے یہ پسند نہیں تھا کہ آپ سے ایسی بات کہوں جو آپ کو ناگوار گزرے، لیکن امیر نے مجھے قسم دی ہے۔ پھر انہیں یہ بات بتائی، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے یہ حدیث فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی۔“