المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن يسار، عن ابن عباس، عن الفضل باب: سلیمان بن یسار کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 15812
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْفَضْلُ رَدِيفُهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، إِنْ شَدُّوهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ لَمْ يَسْتَمْسِكْ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ حُجِّي عَنْهُ»ترجمہ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا، جبکہ فضل آپ کے پیچھے سوار تھے، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کا اپنے بندوں پر فرض کردہ حج میرے والد کو اس حال میں ملا کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، اگر انہیں سواری پر باندھ بھی دیا جائے تو وہ سنبھل نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کرو۔“