حدیث نمبر: 15783
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ يُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ وَيَدْعُو، فَلَمَّا دَفَعَ النَّاسُ قَالَ: «عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ» فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ عَاجَ إِلَيْهِ، فَأَرَادَ الْمَاءَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَرَكِبَ النَّاسُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ وَقَفَ، فَلَمَّا نَفَرَ دَفَعَ النَّاسُ، قَالَ وَهُوَ كَافٍ رَاحِلَتَهُ: «عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ» حَتَّى إِذَا جَاءَ مِنًى قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجِمَارُ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
ترجمہ

سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عرفہ کی شام تکبیر، تہلیل اور دعا کرتے رہے، جب لوگ روانہ ہوئے تو فرمایا: ”سکون اور اطمینان اختیار کرو۔“ جب آپ گھاٹی کے پاس پہنچے تو اس کی طرف مڑے، پانی کا ارادہ کیا، پھر وضو کیا، اور لوگ سوار ہو گئے۔ جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کو جمع کیا، پھر جب فجر پڑھ لی تو (وہاں) ٹھہرے رہے، جب روانہ ہونے کا وقت آیا اور لوگ روانہ ہوئے تو، اپنی سواری کو تھامے ہوئے، فرمایا: ”سکون اور اطمینان اختیار کرو۔“ یہاں تک کہ جب منیٰ پہنچے تو فرمایا: ”تم پر لازم ہے کہ چھوٹی کنکریاں استعمال کرو، جن سے جمرات کو مارا جاتا ہے۔“ اور آپ برابر تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الفاء / حدیث: 15783
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 274، حدیث 692