المعجم الكبير للطبراني
باب الغين— حرف غین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
غرفة بن الحارث الأزدي الكندي باب: سیدنا غرفہ بن حارث ازدی کندی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّ غَرْفَةَ بْنَ الْحَارِثِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ - أَنَّهُ مَرَّ نَصْرَانِيٌّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدَقُونُ، فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَذَكَرَ النَّصْرَانِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَهُ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ أَعْطَيْنَاهُ الْعَهْدَ، فَقَالَ غَرْفَةُ: «مُعَاذَ اللهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللهِ وَرَسُولِهِ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ نَحِلَّ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ، يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ، وَأَنْ نُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ يُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ إِلَّا أَنْ يَأْتُوا فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ» ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: صَدَقْتَسیدنا غرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ، جنہیں (نبی کریم ﷺ کی) صحبت حاصل تھی اور جنہوں نے ارتداد (کے فتنے) کے دوران یمن میں عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر قتال کیا تھا، ان کے پاس سے اہل مصر کا ایک نصرانی گزرا جسے مندقون کہا جاتا تھا، انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نصرانی نے نبی کریم ﷺ کا ذکر کر کے آپ کی توہین کی، یہ بات عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تک پہنچائی گئی، تو انہوں نے سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہا: ہم نے تو انہیں عہد دے رکھا ہے۔ اس پر سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ کہ ہم نے انہیں یہ عہد و پیمان اس بات پر دیا ہو کہ وہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں تکلیف دیں، ہم نے تو انہیں اس بات پر عہد دیا ہے کہ ہم ان کے اور ان کے گرجاؤں کے درمیان رکاوٹ نہیں بنیں گے، وہ ان میں جو چاہیں کہیں، اور ہم انہیں ایسی ذمہ داری نہیں دیں گے جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں، اور ہم ان کی طرف سے (دشمن کے مقابلے میں) لڑیں گے، اور انہیں ان کے اپنے فیصلوں میں آزاد چھوڑا جائے گا، سوائے اس کے کہ وہ خود (ہمارے پاس) آئیں تو ہم ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں گے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سچ کہا۔