حدیث نمبر: 15718
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، ثنا فَضَالَةُ بْنُ شَرِيكٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ يَوْمًا فِي النَّاسِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، تُوشِكُونَ أَنْ تَكُونُوا مُجَنَّدَةً، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ» فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ فَاخْتَرْ لِي، قَالَ: «إِنِّي أَخْتَارُ لَكَ الشَّامَ، فَإِنَّهُ خِيْرَةُ الْمُسْلِمِينَ وَصَفْوَةُ اللهِ مِنْ بِلَادِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا صَفْوَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيَسْقِ مِنْ غُدُرِهِ، فَإِنَّ اللهَ قَدْ كَفَلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ»
ترجمہ

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! عنقریب تم لشکروں میں بٹ جاؤ گے، ایک لشکر شام میں ہوگا، ایک عراق میں اور ایک یمن میں۔“ اس پر سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو میرے لیے (کسی ایک کا) انتخاب فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے شام کا انتخاب کرتا ہوں، کیونکہ وہ اللہ کے ملکوں میں سے مسلمانوں کا بہترین اور چنیدہ حصہ ہے، اللہ اپنی مخلوق میں سے اپنے چنیدہ بندوں کو وہاں جمع فرماتا ہے، اور جو انکار کرے وہ یمن سے جا ملے اور اپنے (پانی کے) حوضوں سے سیراب ہو، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی ذمہ داری لی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15718
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 251، حدیث 627