المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن عمرو السلمي، عن العرباض بن سارية باب: عبدالرحمن بن عمرو سلمی کی سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَظَهُمْ يَوْمًا مَوْعِظَةً بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدَّعٍ، فَمَا تَعْهَدْ إِلَيْنَا؟ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، وَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنْ بَعْدِي، عُضْوًا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ»سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسا وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل خوفزدہ ہو گئے، تو ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو الوداع کرنے والے کا وعظ ہے، سو ہم سے کیا عہد لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، سو نئی نکالی ہوئی باتوں سے بچنا کیونکہ وہ گمراہی ہیں، اور میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو لازم پکڑنا، اسے دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا۔“