❮
❯
حدیث نمبر: 15664
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، فَإِذَا بُرَيْدَةُ جَالِسٌ وَسُكْبَةُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَسْلَمَ قَائِمٌ يُصَلِّي الضُّحَى، فَقَالَ بُرَيْدَةُ: يَا عِمْرَانُ أَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُصَلِّيَ كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ؟ وَإِنَّمَا يَقُولُ ذَلِكَ كَأَنَّهُ يَعْنِيهِ بِهِ، قَالَ: فَسَكَتَ عِمْرَانُ وَمَضَيْنَا، فَقَالَ عِمْرَانُ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذِ اسْتَقْبَلْنَا أُحُدًا فَصَعَدْنَا عَلَيْهِ، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «وَيْلُ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ، يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَدْخُلَهَا، يَجِدُ عَلَى كُلٍّ مِنْهَا مَلَكًا مُصَلَّتًا بِالسَّيْفِ» ثُمَّ نَزَلْنَا
فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: فُلَانٌ، وَمِنْ أَمْرِهِ فَجَعَلْتُ أُثْنِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «لَا تُسْمِعْهُ فَتَقْطَعَ ظَهْرَهُ» ثُمَّ رَفَعَ يَدَيَّ وَقَالَ: «خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: هَكَذَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ فَرَوَيَاهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ»
ترجمہ

عبداللہ بن شقیق عقیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، تو ہم بصرہ کی مسجد میں پہنچے، وہاں بریدہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اور سکبہ، جو محمد ﷺ کے صحابہ میں سے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی تھے، کھڑے چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمران! کیا تم سکبہ کی طرح نماز نہیں پڑھ سکتے؟ - اور وہ یہ بات گویا انہیں (عمران کو) نشانہ بنا کر کہہ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمران رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور ہم چل پڑے، پھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ ہم احد کے سامنے آ گئے تو ہم اس پر چڑھے، آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”تباہی ہو اس بستی کی جسے اس کے باشندے اس کی بہترین حالت میں چھوڑ جائیں گے، دجال اس کے پاس آئے گا مگر اس میں داخل نہ ہو سکے گا، اسے اس کے ہر داخلی راستے پر ننگی تلوار لیے فرشتہ کھڑا ملے گا۔“ پھر ہم نیچے اترے۔ پھر ہم مسجد میں آئے تو ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: فلاں، اور اس کے بارے میں اس کی تعریف کرنے لگا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے یہ نہ سنانا، ایسا نہ ہو کہ اس کی کمر توڑ دو۔“ پھر میرے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو آسان ہو۔“ امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے اعمش نے ابوبشر سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، ”جبکہ شعبہ اور ابوعوانہ نے اس کی مخالفت کی، انہوں نے اسے ابوعبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے رجاء بن ابی رجاء سے، انہوں نے محجن بن الادرع سے روایت کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15664
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 230، حدیث 573