المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو قتادة واسمه: تميم بن ندير، عن عمران باب: ابوقتادہ، جن کا نام تمیم بن ندیر تھا، کی سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَمَعَنَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ عِمْرَانُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» قَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِنَّا نَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا، وَأَنَّ بَعْضَهُ ضَعْفٌ، فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ، فَأَعَادَ بَشِيرٌ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ قَالَ: «أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُنِي بِالْكُتُبِ» ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِنَّهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ… ہم سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہمارے ساتھ بشیر بن کعب بھی تھے، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیا سراسر خیر ہے۔“ بشیر بن کعب نے کہا: اے ابونجید! ہم کچھ کتابوں میں پاتے ہیں کہ اس میں سے کچھ سکینت اور وقار ہے، اور اس میں سے کچھ کمزوری بھی ہے۔ تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے حدیث دہرائی، تو بشیر نے بھی ان کے سامنے وہی حدیث دہرائی، اس پر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے یہاں تک کہ ان کے دونوں گال سرخ ہو گئے، اور فرمایا: ”میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کتابوں سے میرا مقابلہ کر رہے ہو؟“ تو ہم نے کہا: اے ابونجید، یہ اہلِ بیت میں سے ایک آدمی ہیں۔