حدیث نمبر: 15584
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ عَمْرُو بْنُ عِيسَى الْعَدَوِيُّ، أنا حُجَيْرُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: مِنْهُ الضَّعْفُ، فَقَالَ عِمْرَانُ: «يَا حُجَيْرٌ مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ مِنَّا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، قَالَ: «يَسْمَعُنِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ مِنْهُ ضَعْفٌ، وَمِنْهُ الْوَقَارُ لِلَّهِ، وَاللهِ لَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا الْيَوْمَ»
ترجمہ

سیدنا حجیر بن ربیع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”حیا سراسر خیر ہے۔“ تو بشیر بن کعب نے کہا: اس میں سے کچھ کمزوری بھی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے حجیر! یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: یہ ہم میں سے ایک آدمی ہے، اس میں کوئی برائی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے سنتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں کچھ کمزوری بھی ہے، حالانکہ اس میں اللہ کے لیے وقار بھی ہے۔ اللہ کی قسم، آج میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15584
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 202، حدیث 493