المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلم بن بشير عن الحسن عن عمران بن حصين باب: سلم بن بشیر کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 15486
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، عَنْ سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَقَامُ رَجُلٍ فِي صَفٍّ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَبَلَغَ أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ فَبِعِتْقِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا اللہ کی راہ میں صف میں کھڑا ہونا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے، اور جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور وہ نشانے تک پہنچا، خواہ خطا ہوا یا نشانے پر لگا، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، اور جس کے بال اللہ کی راہ میں سفید ہوئے وہ قیامت کے دن اس کے لیے نور ہوں گے۔“