حدیث نمبر: 15435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَعَرَّسَ بِنَا تَعْرِيسَةً إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ، فَاسْتَيْقَظْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: «الرَّحِيلَ الرَّحِيلَ» ، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ فِي كَبِدِ السَّمَاءِ نَزَلَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ وَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُعِيدُ مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا؟ قَالَ: «نَهَانَا اللهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنَّا؟»
ترجمہ

… سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک رات چلے، تو آپ ﷺ نے رات کے آخری حصے تک تھوڑا سا پڑاؤ کیا۔ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوچ کرو، کوچ کرو“، تو ہم چل پڑے یہاں تک کہ جب سورج آسمان کے وسط میں پہنچ گیا تو آپ ﷺ نے پڑاؤ کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اذان دی اور ہم میں سے ہر شخص نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا ہم کل اسے دوبارہ اس کے وقت پر پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ نے ہمیں سود سے منع کیا ہے اور پھر وہ ہم سے اسے قبول کر لے گا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15435
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 157، حدیث 344