المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يونس بن عبيد عن الحسن عن عمران بن حصين باب: یونس بن عبید کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا حُمَيْدٌ، وَحَبِيبٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ، فَلَقِيَهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي دَارِ الْإِمَارَةِ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي فِيمَا جِئْتُكَ؟ أَمَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ: فَقُمْ فَقَعْ فِي النَّارِ، فَقَامَ الرَّجُلُ لَيَقَعَ، فَأُدْرِكَ فَأُمْسِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ، لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ» قَالَ: أَيْ قَالَ، وَإِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَزیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر پر امیر مقرر کیا، تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ دار الامارہ میں لوگوں کے درمیان ان سے ملے اور فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے پاس کس لیے آیا ہوں؟ کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی کے امیر نے اس سے کہا تھا: ’کھڑے ہو جاؤ اور آگ میں کود پڑو‘، تو وہ آدمی کودنے کے لیے کھڑا ہوا، مگر اسے پکڑ کر روک لیا گیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اس میں گر جاتا تو دونوں آگ میں داخل ہو جاتے، اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔“ انہوں نے کہا: ہاں (یاد ہے)۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا مقصود صرف یہی حدیث (یاد دلانا) تھا۔