المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نجيد بن عمران بن الحصين، عن أبيه باب: نجید بن عمران بن حصین کی اپنے والد سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَهْرِقَانِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيْدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ رَجُلًا مِنْ خُزَاعَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكَانَ الهدلي مُتَوَارِيًا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ وَظَهَرَ النِّدَاءُ ظَهْرَ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَذَبَحَهُ كَمَا تُذْبَحُ الشَّاةُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَتَلَهُ قَبْلَ النِّدَاءِ أَوْ بَعْدَ النِّدَاءِ؟» قَالُوا: قَتَلَهُ بَعْدَ النِّدَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا مُؤْمِنًا بِكَافِرٍ لَقَتَلْتُهُ بِهِ، وَلَكِنْ أَخْرِجُوا عَقْلِهِ» فَأَخْرَجُوا عَقْلِهِ فَبَدَأَ أَوَّلُ عَقْلٍ كان فِي الْإِسْلَامِسیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے ایک آدمی نے قبیلہ خزاعہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، تو وہ ہذلی چھپا رہا۔ پھر جب فتح مکہ کا دن آیا اور اعلان ہو گیا تو وہ ظاہر ہوا، تو خزاعہ کے ایک آدمی نے اسے پا لیا اور اسے ایسے ذبح کر دیا جیسے بکری ذبح کی جاتی ہے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اسے اعلان سے پہلے قتل کیا یا اعلان کے بعد؟“ لوگوں نے کہا: اس نے اسے اعلان کے بعد قتل کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل کرنے والا ہوتا تو اسے اسی کے بدلے قتل کر دیتا، لیکن اس کی دیت نکالو۔“ چنانچہ انہوں نے اس کی دیت نکالی، اور یہ اسلام میں پہلی دیت تھی۔