المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عمران بن الحصين الخزاعي سبرة بن معبد الجهني، عن عمران بن حصين باب: سیدنا عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ کی مرویات؛ سبرہ بن معبد جہنی کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ صُحَارِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُهَيْنَةَ بْنِ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ، فَقَالَ: لَيُحَدِّثُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِمَكْرُمَةِ قَوْمِهِ، وَمَا كَانَ فِيهِمْ مِنْ فَضْلٍ، فَحَدَّثَ الْقَوْمُ حَتَّى انْتَهَى الْحَدِيثُ إِلَى فَتًى مِنْ جُهَيْنَةَ، فَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَجَزَ عَنْ تَمَامِهِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ فَقَالَ: حَدِّثْ يَا أَخَا جُهَيْنَةَ بِفِيكَ كُلِّهِ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «جُهَيْنَةُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ، غَضِبُوا لِغَضَبِي، وَرَضُوا لِرِضَائِي، أَغْضَبُ لِغَضَبِهِمْ وَأَرْضَى لِرِضَاهُمْ، مَنْ أَغْضَبَهُمْ فَقَدْ أَغْضَبَنِي، وَمَنْ أَغْضَبَنِي فَقَدْ أَغْضَبَ اللهَ» فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا جَاءَ الْحَدِيثُ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَ:
[البحر الوافر]
يُكَذِّبُنِي بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ حَرْبٍ ... وَيَشْتُمُنِي لِقَوْلِي فِي جُهَيْنَةْ
وَلَوْ أَنِّي كَذَبْتُ لَظَنِّ قَولِي ... وَلَمْ أَكْذَبْ لِقَوْمِي مِنْ مُزَيْنَةْ
وَلَكِنِّي سَمِعْتُ وَأَنْتَ مَيْتٌ ... رَسُولَ اللهِ يَوْمَ لَوى شُنَيْنَةْ
يَقُولُ: الْقَوْمُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ... جُهَيْنَةُ يَوْمَ خَاصَمَهُ عُيَيْنَةْ
إِذَا غَضِبُوا غَضِبْتُ وَفِي رِضَاي ... مِنَّةٌ لَيْسَتْ مُنَيْنَةْ
وَمَا كَانُوا كَذَكْوَانَ وَرِعْلِ ... وَلَا الْحَيَّيْنِ مِنْ سَلَفِي جُهَيْنَةْ… تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی جسے مکمل کرنے سے قاصر رہے، تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے جہینہ کے بھائی! اپنے پورے منہ سے بیان کرو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جہینہ مجھ سے ہے اور میں ان سے ہوں، وہ میری ناراضگی پر ناراض ہوتے ہیں اور میری رضامندی پر راضی ہوتے ہیں، میں ان کی ناراضگی پر ناراض ہوتا ہوں اور ان کی رضامندی پر راضی ہوتا ہوں، جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا، اور جس نے مجھے ناراض کیا اس نے اللہ کو ناراض کیا۔“ اس پر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے جھوٹ کہا، یہ حدیث تو قریش کے بارے میں آئی ہے۔ تو انہوں نے یہ اشعار کہے: ”بنو معاویہ بن حرب مجھے جھٹلاتے ہیں … اور جہینہ کے بارے میں میری بات پر مجھے گالی دیتے ہیں، اگر میں جھوٹ بولتا تو میری قوم مزینہ کے حق میں بولتا … اور جھوٹ نہ بولتا، لیکن میں نے سنا، جبکہ تم موجود نہ تھے … رسول اللہ ﷺ کو، 'لویٰ شنینہ' کے دن، فرماتے ہوئے: یہ قوم مجھ سے ہے اور میں ان سے ہوں … جہینہ، جس دن عیینہ نے ان سے جھگڑا کیا، جب وہ ناراض ہوں تو میں ناراض ہوتا ہوں، اور میری رضامندی میں … ایک ایسا احسان ہے جو معمولی نہیں، اور وہ ذکوان اور رعل جیسے نہ تھے … اور نہ ہی جہینہ کے آبائی دو قبیلوں جیسے۔“