حدیث نمبر: 15287
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: لَمَّا هَاجَتِ الْفِتْنَةُ، قَالَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ لِحُجَيرِ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ: «اذْهَبْ إِلَى قَوْمِكَ فَانْهَهُمْ عَنِ الْفِتْنَةِ» فَقَالَ: إِنِّي لَمَغْمُورٌ فِيهِمْ، وَمَا أُطَاعُ، قَالَ: «فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي وَانْهَهُمْ عَنْهَا» قَالَ: وَسَمِعْتُ عِمْرَانَ يُقْسِمُ بِاللهِ: «لِأَنْ أَكُونَ عَبْدًا حَبَشِيًّا أَسْوَدَ فِي أَعْيُنِ حَصَيَاتٍ فِي رَأْسِ جَبَلٍ أَرْعَاهُنَّ حَتَّى يُدْرِكَنِي أَجْلِي، أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَرْمِيَ فِي أَحَدِ الصَّفَّيْنِ بِسَهْمٍ أَخْطَأْتُ أَمْ أَصَبْتُ»
ترجمہ

حمید بن ہلال کہتے ہیں: جب فتنہ برپا ہوا تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حجیر بن ربیع عدوی سے فرمایا: اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انہیں فتنے سے روکو۔ انہوں نے کہا: میں تو ان میں غیر معروف ہوں، میری بات نہیں مانی جائے گی۔ انہوں نے فرمایا: تو میری طرف سے انہیں پہنچاؤ اور انہیں فتنے سے روکو۔ اور میں نے عمران رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتے سنا: اگر میں ایک کالا حبشی غلام ہوتا، پہاڑ کی چوٹی پر چند بکریوں کی نگرانی کرتا رہتا یہاں تک کہ میری موت آ جائے، تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں دونوں صفوں میں سے کسی ایک میں تیر چلاؤں، چاہے وہ خطا ہو یا صحیح۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15287
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 105، حدیث 196