المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبدة بن حزن النصري، واختلف في اسمه وصحبته ويقال السوائي باب: سیدنا عبدہ بن حزن نصری رضی اللہ عنہ، ان کے نام اور صحابیت میں اختلاف ہے، اور انہیں سوائی بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 15250
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ: لَغَطَ قَوْمٌ قُرْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ بُعِثْتَ إِلَى هَؤُلَاءِ بَعْضَ مَنْ يَنْهَاهُمْ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: «لَوْ بُعِثْتُ إِلَيْهِمْ فَنَهَيْتُهُمْ أَنْ يَأْتُوا الْحَجُونَ لَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهِ حَاجَةٌ»ترجمہ
سیدنا عبدہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے قریب شور مچایا، تو آپ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کاش آپ ان کی طرف کسی کو بھیجیں جو انہیں اس سے منع کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں انہیں کوئی بھیجوں اور انہیں حجون میں جانے سے منع کروں تو بھی ان میں سے کوئی نہ کوئی وہاں ضرور جائے گا، خواہ اسے وہاں جانے کی کوئی ضرورت نہ ہو۔“