المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكاف بن وداعة الهلالي باب: سیدنا عکاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُزَاعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ غُصَيفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: جَاءَ عَكَّافُ بْنُ وَدَاعَةَ الْهِلَالِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَكَّافُ، أَلَكَ زَوْجَةٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «وَلَا جَارِيَةٌ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَأَنْتَ صَحِيحٌ مُوسِرٌ؟» قَالَ: نَعَمْ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ: «فَأَنْتَ إِذًا مِنْ إِخَوَانِ الشَّيَاطِينِ، إِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنْ رُهْبَانِ النَّصَارَى فَأَنْتَ مِنْهُمْ، وَأَنْ تَكُونَ مِنَّا، فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ، فَإِنَّ مِنْ سُنَّتِنَا النِّكَاحُ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ، وَأَرْذَلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ، أَفِي الشَّيْطَانِ تَمَرَّسُونَ مَا لَهُ فِي نَفْسِي سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ هم الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا. وَيْحَكَ يَا عَكَّافٌ، إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ دَاوُدَ، وَصَوَاحِبُ يُوسُفَ، وَصَوَاحِبُ كُرْسُفَ» قَالَ عَطِيَّةُ: وَمَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «رَجُلٌ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى سَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ، يَصُومُ النَّهَارَ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ، وَلَا صَلَاةٍ، كَفَرَ مِنْ بَعْدَ ذَلِكَ بِاللهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا، فَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عُبَادَةِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَدَارَكَهُ اللهُ عَمَّا سَلَفَ مِنْهُ فَتَابَ اللهُ عَلَيْهِ، وَيْحَكَ يَا عَكَّافٌ، تَزَوَّجْ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُذْنِبِينَ» فَقَالَ عَكَّافٌ: لَا أَبْرَحُ يَا رَسُولَ اللهِ حَتَّى تَزَوَّجَنِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى اسْمِ اللهِ وَبَرَكَتِهِ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ»عطیہ بن بسر مازنی کہتے ہیں: عکاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عکاف! کیا تمہاری کوئی بیوی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور کوئی لونڈی بھی نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تم تندرست اور خوشحال بھی ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، الحمدللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تم شیطانوں کے بھائیوں میں سے ہو، یا تو تم نصاریٰ کے راہبوں میں سے ہو تو انہی میں شمار ہو، یا تم ہم میں سے ہو تو جیسے ہم کرتے ہیں ویسے کرو، کیونکہ نکاح ہماری سنت میں سے ہے، تم میں سب سے برے وہ ہیں جو غیر شادی شدہ ہیں، اور تمہارے مُردوں میں سب سے ادنیٰ وہ ہیں جو غیر شادی شدہ مریں، کیا تم شیطان کے سامنے یونہی کھڑے رہو گے؟ اس کے پاس نیک مردوں اور عورتوں کے خلاف اس سے زیادہ موثر ہتھیار کوئی نہیں سوائے اس کے، البتہ شادی شدہ لوگ پاک اور فحاشی سے بری ہیں۔ افسوس اے عکاف! یہ عورتیں داؤد کی ساتھی، یوسف کی ساتھی، اور کرسف کی ساتھی ہیں۔“ عطیہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کرسف کون تھا، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا، سمندر کے کنارے رہتا تھا، دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا، نہ روزے سے تھکتا نہ نماز سے، پھر اس کے بعد ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر اللہ عظیم کا انکار کر بیٹھا، اپنے رب کی عبادت چھوڑ دی، تو اللہ نے اس کی پہلی حالت کی برکت سے اسے سنبھالا اور اس کی توبہ قبول فرمائی۔ افسوس اے عکاف! شادی کر لو، کیونکہ تم گنہگاروں میں سے ہو۔“ عکاف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں یہیں سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ آپ میری شادی جس سے چاہیں کر دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے نام اور اس کی برکت سے تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کر دی۔“