المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليم بن عامر الخبائري، عن عوف بن مالك باب: سلیم بن عامر خبائری کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَاسْتَيْقَظْتُ مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى فِي الْعَسْكَرِ شَيْئًا أَطْوَلَ مِنْ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ، قَدْ لُصِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ وَبَعِيرُهُ بِالْأَرْضِ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ النَّاسَ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى مُضْطَجِعِ النَّبِيِّ، فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِيهِ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى الْفِرَاشِ، فَإِذَا هُوَ بَارِدٌ، فَقُمْتُ فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ النَّاسَ وَأَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، ذُهِبَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجْتُ مِنَ الْعَسْكَرِ كُلِّهِ، فَبَصَرْتُ بِسَوَادٍ فَمَضَيْتُ إِلَيْهِ فَرَمَيْتُ بِحَجَرٍ فَمَضَيْتُ إِلَى السَّوَادِ، وَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَإِذَا بَيْنَ أَيْدِينَا صَوْتٌ كَدَوِيِّ الرَّحَى، وكَصَوْتِ الْعَصَا تَصِفَهَا الرِّيَاحُ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَيْ قَوْمٌ اسْتَوُوا حَتَّى تَصْحُوا أَوْ يَأْتِيَكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ نَادَى: «أَثَمَّ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا حَتَّى كُنَّا مَعَهُ لَا نَسْأَلَهُ شَيْئًا وَلَا يُخْبِرْنَا حَتَّى قَعَدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا خَيَّرَنِي رَبِّي اللَّيْلَةَ؟» قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ: «هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جگہ اترے، رات کو میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ لشکر میں کجاوے کے پچھلے حصے سے اونچی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، ہر انسان اور اس کا اونٹ زمین سے چمٹا ہوا تھا۔ میں اٹھا اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا نبی کریم ﷺ کی خوابگاہ تک پہنچا تو دیکھا کہ آپ ﷺ وہاں نہیں ہیں۔ میں نے اپنے ہاتھ بستر پر رکھے تو وہ ٹھنڈا تھا۔ میں اٹھا اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا نکلا اور کہنے لگا: انا للہ وانا الیہ راجعون، رسول اللہ ﷺ کو (کوئی) لے گیا! یہاں تک کہ میں پورے لشکر سے باہر نکل گیا، تو مجھے ایک سیاہی نظر آئی، میں اس کی طرف بڑھا، ایک پتھر پھینکا، پھر اس سیاہی کی طرف چلا تو دیکھا کہ وہ معاذ بن جبل اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما ہیں، اور ہمارے سامنے چکی کی گڑگڑاہٹ جیسی آواز تھی، اور لکڑی کی آواز جیسے ہوائیں اسے سرسرا رہی ہوں، تو ہم نے آپس میں کہا: اے قوم! ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ تمہیں ہوش آئے یا رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس آ جائیں، ہم جتنی دیر اللہ نے چاہی ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ نے آواز دی: ”کیا یہاں معاذ بن جبل، ابوعبیدہ بن جراح اور عوف بن مالک ہیں؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے یہاں تک کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہو گئے، ہم نے آپ ﷺ سے کچھ نہ پوچھا اور آپ ﷺ نے ہمیں کچھ نہ بتایا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے بستر پر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ میرے رب نے آج رات مجھے کس بات کا اختیار دیا؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو، یا شفاعت مل جائے، تو میں نے شفاعت کو چنا۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں اس کے اہل میں سے بنائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔“