حدیث نمبر: 15211
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مِصْرُ، سَبُّوا أَهْلَ الشَّامِ، فَأَخْرَجَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ رَأْسَهُ مِنْ تُرْسٍ ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ مِصْرَ أَنَا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِيهِمُ الْأَبْدَالُ، وَبِهِمْ تُنْصَرُونَ، وَبِهِمْ تُرْزَقُونَ»
ترجمہ

لوگوں نے شام والوں کو گالی دی، تو سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے ڈھال میں سے اپنا سر نکالا اور فرمایا: اے اہل مصر! میں عوف بن مالک ہوں، شام والوں کو گالی نہ دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”ان میں ابدال (نیک بندے) ہیں، اور انہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے، اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15211
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 65، حدیث 120