المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مسلم بن قرظة الأشعري، عن عوف بن مالك باب: مسلم بن قرظہ اشعری کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 15206
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ» قَالُوا: أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ الْخَمْسَ، إِلَّا مَنْ وَلِيَهُ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللهِ، فَلْيَكْرَهْ مَا أَتَى مِنْ مَعْصِيَةِ اللهِ، أَلَا وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ»ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں، اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔“ صحابہ نے عرض کیا: تو کیا ہم ان سے بغاوت نہ کر دیں یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ پانچوں نمازیں قائم رکھیں، البتہ جس کا کوئی حاکم ہو اور وہ اسے اللہ کی نافرمانی کرتے دیکھے تو وہ اس نافرمانی کو ناپسند کرے، خبردار! اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو۔“