حدیث نمبر: 15187
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ رَجُلٌ يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَاحِبِي الَّذِي رَأَيْتَهُ مَعِيَ اشْتَرَى قَوْسًا وَأَهْدَاهَا إِلَيَّ، أَفَآخُذُهَا مِنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ عَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخُذُهَا؟ قَالَ: «لَا» ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ قَالَ: آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا» . قَالَ: أَفَلَا آخُذُهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَيَكُونُ عِنْدَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرِيدُ أَنْ تَلْقَى اللهَ يَا عَوْفٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَيْنَ كَتِفَيْكَ جَمْرَةٌ مِنْ جَهَنَّمَ؟»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میرا وہ ساتھی جسے آپ نے میرے ساتھ دیکھا تھا، اس نے ایک کمان خریدی اور مجھے ہدیہ کر دی، کیا میں اسے اس سے لے لوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر وہ رکے رہے یہاں تک کہ جب سال پورا ہو گیا تو دوبارہ پوچھا: یا رسول اللہ، کیا میں اسے لے لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر وہ رکے رہے یہاں تک کہ سال پورا ہوا تو کہا: یا رسول اللہ، کیا میں وہ کمان لے لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: تو کیا میں اسے نہ لوں تو وہ اسی کے پاس رہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عوف! کیا تم چاہتے ہو کہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملو کہ تمہارے کندھوں کے درمیان جہنم کا انگارہ ہو؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15187
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 53، حدیث 96