حدیث نمبر: 15182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَرْوَرُوذِيُّ، ثنا أَبُو تَقِيِّ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحِمْصِيُّ، ثنا مَعْدَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتَ يَا عَوْفٌ إِذَا افْتَرَقَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَائِرُهُنَّ فِي النَّارِ؟» قُلْتُ: وَمَتَى ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِذَا كَثُرَتِ الشُّرَطُ، وَمَلَكَتِ الْإِمَاءُ، وَقَعَدَتِ الْحُمْلَانُ عَلَى الْمَنَابِرِ، وَاتَّخَذُوا الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ، وَزُخْرِفَتِ الْمَسَاجِدُ، وَرُفِعَتِ الْمَنَابِرُ، وَاتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَتُفُقِّهَ فِي الدِّينِ لِغَيْرِ اللهِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، وَعَقَّ أُمَّهُ، وَأَقْصَى أَبَاهُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ، فَيَوْمَئِذٍ يَكُونُ ذَلِكَ، وَيَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ إِلَى الشَّامِ تَعْصِمُهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ» قُلْتُ: وَهَلْ يُفْتَحُ الشَّامُ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَشِيكًا، ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ بَعْدَ فَتْحِهَا، ثُمَّ تَجِيءُ فِتْنَةٌ غَبْرَاءُ مُظْلِمَةٌ، ثُمَّ يَتْبَعُ الْفِتَنُ بَعْضُهَا بَعْضًا حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِيُّ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَاتْبَعْهُ وَكُنْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عوف! تمہارا کیا حال ہو گا جب یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ایک جنت میں ہو گا اور باقی سب جہنم میں؟“ میں نے عرض کیا: یہ کب ہو گا یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب پہرہ دار زیادہ ہو جائیں، اور لونڈیاں مالک بن جائیں، اور نالائق لوگ منبروں پر بیٹھیں، اور قرآن کو گانے کا آلہ بنا لیا جائے، اور مسجدیں سجائی جائیں، اور منبر بلند کیے جائیں، اور مالِ فَے کو باری باری چند لوگوں کی ملکیت بنا لیا جائے، اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جائے، اور امانت کو غنیمت سمجھا جائے، اور دین کی سمجھ غیر اللہ کے لیے حاصل کی جائے، اور آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے اور اپنے باپ کو دور کر دے، اور اس امت کے بعد والے پہلوں پر لعنت کریں، اور قبیلے کی سرداری اس کے فاسق کے ہاتھ میں ہو، اور قوم کا سردار ان میں سب سے ذلیل شخص ہو، اور آدمی کو اس کے شر سے بچنے کے لیے عزت دی جائے، جس دن یہ ہو گا وہی زمانہ ہو گا، اور اس دن لوگ اپنے دشمن سے بچنے کے لیے شام کی طرف بھاگیں گے۔“ میں نے عرض کیا: کیا شام فتح ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جلد ہی، پھر اس کی فتح کے بعد فتنے برپا ہوں گے، پھر ایک تاریک، دھندلا فتنہ آئے گا، پھر فتنے ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہیں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا جسے مہدی کہا جائے گا، اگر تم اسے پاؤ تو اس کی پیروی کرنا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہو جانا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15182
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 51، حدیث 91