❮
❯
حدیث نمبر: 15180
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرٍ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرَادَ سَلْبَهُ فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَوْفٌ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «يَا خَالِدُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلْبَهُ؟» فَقَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «ادْفَعْهُ إِلَيْهِ» ، فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ وَقَالَ: هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتُغْضِبَ وَقَالَ: «لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا أُمَرَائِي؟ إِنَّمَا مِثْلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَى إِبِلًا فَرَعَاهَا، ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا، فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ، فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کیا اور اس کا سامان لینا چاہا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے، جو ان پر امیر تھے، اسے روک دیا۔ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! تمہیں اسے اس کا سامان دینے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ، مجھے یہ بہت زیادہ لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ چنانچہ خالد رضی اللہ عنہ عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو عوف نے ان کی چادر کھینچی اور کہا: کیا میں نے تمہارے ساتھ وہ پورا کر دکھایا جو میں نے تم سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہا تھا؟ اس پر آپ ﷺ کو غصہ دلایا گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! اسے مت دو، کیا تم میرے امیروں کو میری خاطر نہیں چھوڑو گے؟ تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے اونٹ خریدے اور انہیں چرایا، پھر ان کے پانی پلانے کا وقت دیکھ کر انہیں ایک حوض پر لے آیا، تو وہ اس میں گھس کر اس کا صاف پانی پی گئے اور گدلا چھوڑ گئے، تو اس کا صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان پر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15180
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 49، حدیث 89