المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جبير بن نفير الحضرمي، عن عوف بن مالك باب: جبیر بن نفیر حضرمی کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، وَأَبُو يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ فَيْءٌ قَسَّمَهُ مِنْ يَوْمِهِ فَأَعْطَى الْأَهْلَ حَظَّيْنِ، وَأَعْطَى الْأَعْزَبَ حَظًّا وَاحِدًا، فَدُعِينَا وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُعْطَى حَظًّا وَاحِدًا، فَتَسَخَّطَ حَتَّى عَرَفَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ حَضَرَهُ، فَبَقِيَتْ فَضْلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَتَسْقُطُ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا فَتَسْقُطُ وَهُوَ يَقُولُ: «كَيْفَ أَنْتُمْ يَوْمَ يُكْنَزُ لَكُمْ مِنْ هَذَا؟» فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: وَدِدْنَا وَاللهِ لَوْ أُكْنِزَ لَنَا فَصَبَرَ مَنْ صَبَرَ، وَفُتِنَ مَنْ فُتِنَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَلَّكَ تَكُونُ فِيهِ شَرٌّ مَفْتُونٌ»سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس جب مالِ فَے آتا تو آپ ﷺ اسی دن اسے تقسیم فرما دیتے، اہل و عیال والے کو دو حصے دیتے اور غیر شادی شدہ کو ایک حصہ دیتے۔ چنانچہ ہمیں بلایا گیا، اور مجھے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، تو مجھے ایک حصہ دیا گیا، تو وہ ناخوش ہو گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور وہاں موجود لوگوں کو اس کا علم ہو گیا۔ پھر سونے کی کچھ مقدار بچ گئی، نبی کریم ﷺ اسے اپنی چھڑی کے کنارے سے اٹھاتے رہے تو وہ گر جاتی، پھر اٹھاتے تو پھر گر جاتی، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تم اس دن کیسے ہو گے جب تمہارے لیے اس کا خزانہ جمع کیا جائے گا؟“ تو کسی نے جواب نہ دیا، پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، ہماری تمنا ہے کہ ہمارے لیے ایسا مال جمع کیا جائے، تو جو صبر کرے گا وہ صبر کرے گا اور جو فتنے میں پڑے گا وہ پڑے گا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”شاید تم اس میں بری طرح فتنے میں پڑنے والے ہو۔“