❮
❯
حدیث نمبر: 15077
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ قَالَا: ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الزَّبِيدِيِّ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، يَرُدُّهُ إِلَى ابْنِ عَائِذٍ يَرُدُّهُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ، وَقَعَ عَلَى صَاحِبِ دَارَيَّا حِينَ فُتِحَتْ، فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ وَمَكَثَ هِشَامٌ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامٌ يَعْتَذِرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا عِيَاضُ، أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا» فَقَالَ لَهُ عِيَاضٌ: يَا هِشَامُ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِي سَمِعْتَ وَرَأَيْنَا الَّذِي رَأَيْتَ وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا هِشَامُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ نَصِيحَةٌ لِذِي سُلْطَانٍ فَلَا يُكَلِّمْهُ بِهَا عَلَانِيَةً وَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَلْيَخْلُ بِهِ، فَإِنْ قَبِلَهَا قَبِلَهَا، وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي لَهُ وَالَّذِي عَلَيْهِ، وَإنَّكَ يَا هِشَامُ، لَأَنْتَ الْحَرِيُّ إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللهِ، فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ سُلْطَانُ اللهِ، فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللهِ»
ترجمہ

جبیر بن نفیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب داریا فتح ہوا تو سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے داریا کے سردار پر سختی کی (اسے سزا دی)، تو سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور سخت لہجے میں بات کی، پھر چند راتیں گزریں تو ہشام معذرت کرنے آئے اور کہا: اے عیاض! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب اسے ہو گا جو دنیا میں لوگوں کو سب سے سخت عذاب دینے والا تھا“؟ عیاض نے ان سے کہا: اے ہشام! ہم نے بھی وہی سنا جو تم نے سنا اور وہی دیکھا جو تم نے دیکھا اور اسی کی صحبت اختیار کی جس کی تم نے کی۔ کیا تم نے، اے ہشام، رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جس کے پاس کسی حکمران کے لیے کوئی نصیحت ہو تو وہ اسے علی الاعلان نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑے اور تنہائی میں اسے کہے، اگر وہ اسے قبول کر لے تو ٹھیک، ورنہ اس نے وہ ادا کر دیا جو اس کا حق اور اس کی ذمہ داری تھی۔“ اور اے ہشام! تم تو واقعی بڑے جری ہو کہ اللہ کے حاکم پر جرأت کرتے ہو، کیا تمہیں یہ خوف نہ ہوا کہ اللہ کا حاکم تمہیں قتل کر دے اور تم اللہ کے حاکم کے ہاتھوں قتل ہونے والے بن جاؤ؟

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15077
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 367، حدیث 1007