حدیث نمبر: 15013
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، وَمَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَا: ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا رَامِيًا فَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي، فَيَقُولُ: يَا خَالِدُ، اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا خَالِدُ، تَعَالَ أُحَدِّثْكَ بِمَا حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللهْوِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا أَوْ تَرَكَهَا "
ترجمہ

خالد بن زید کہتے ہیں کہ میں تیر انداز آدمی تھا، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرتے تو فرماتے: اے خالد! چلو ہم تیر اندازی کریں۔ ایک دن میں نے ان کے پاس جانے میں دیر کر دی تو انہوں نے فرمایا: اے خالد! آؤ، میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتائی تھی۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ عزوجل تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرتا ہے: اس کے بنانے والے کو جو اس کی تیاری میں نیکی کی نیت رکھے، اسے چلانے والے کو، اور اسے تیر پکڑانے والے کو۔ اور تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تیر اندازی کرنا مجھے سواری کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ لہو میں سے صرف تین چیزیں ہیں: آدمی کا اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا، اپنی بیوی سے دل لگی کرنا، اور اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا۔ اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بے رغبتی کے باعث اسے چھوڑ دیا، تو یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کی اس نے ناشکری کی یا اسے چھوڑ دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15013
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 342، حدیث 942