المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو علي الهمداني ثمامة بن شفي، عن عقبة بن عامر باب: ابوعلی ہمدانی، ثمامہ بن شفی، کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 14979
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَخْبَرَنِي عِيسَى، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنَ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَسَأَلْنَا أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَبَى عَلَيْنَا وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَؤُمُّ عَبْدٌ قَوْمًا إلَّا تَوَلَّى مَا عَلَيْهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ، فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ»ترجمہ
ثمامہ بن شفی (ابوعلی ہمدانی) کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، نماز کا وقت ہوا تو ہم نے ان سے امامت کرانے کی درخواست کی، انہوں نے انکار کیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو بندہ کسی قوم کی امامت کرتا ہے وہ ان کی نماز کی ذمہ داری بھی سنبھالتا ہے، اگر اس نے اچھی طرح ادا کی تو اجر اسے اور انہیں دونوں کو ملے گا، اور اگر کوتاہی کی تو وبال صرف اسی پر ہو گا، ان پر نہیں۔“